Sifar Se Aik Tak: Cyberspace Ke Munshi Ki Sargazasht / صفر سے ایک تک: سائبرسپیس کے منشی کی سرگزشت By Mirza Athar Baig

    Highly recommended for everyone trying to find a satirical and a new form of literature in Urdu.
    Muashray ki akaasi kuch kirdaaron ke zariye bohot khoobsurti sey bayaan ki gai hai aur aakhir mein bohot sey sawalaat chorr jaati hai! 4/5 ✨ Hardcover اس کتاب کو پڑھ کہ پہلا خیال آیا کہ ویسا ہی تبصرہ کروں جیسے پطرس بخاری میبل کے سامنے تبصرہ کر تے تھے 😆

    مجھے نہیں سمجھ آئی کہ اس میں رائٹر کیا چاہتے تھے۔ اگر یہ کسی مخصوص واقعہ پر طنزیہ تبصرہ ہے تو وہ بھی سمجھ نہیں آیا کس طرف اشارہ ہے۔

    میں نے کتاب بغیر دیکھے صرف نام پڑھ کر اٹھا لی۔ میرے اندازہ تھا کوئی ایپک ہائسٹ سے متعلق ہو گی یا کسی ہیکر کی کوئی کہانی ہے۔ تھوڑا بہت جو انٹرنیٹ پر تبصرہ ملا تو یہ اندازہ لگا کہ کچھ مزاح اور فلسفے کا امتزاج ہے۔ پھر یہ خیال آیا کوئی پروگرامر ہو گا جس نے کچھ ہیک کر لیا ہے یا انٹرنیٹ پر کچھ ایسا سیکریٹ مشن کے متعلق دیکھ لیا ہے جو عام آدمی نہیں دیکھ سکتا تھا۔ اب کچھ فورسز اس کے پیچھے پڑ گئیں ہیں۔ یہ پڑھنے سے پہلے کے اندازے ہیں۔ اب معلوم نہیں کیا ہے کیا نہیں۔ میں بھی ہوں یا نہیں۔ دنیا گول ہے یا چوکور۔ پانی میں مزید پانی ملانے سے پانی پتلا ہو جاتا ہے یا گاڑھا ہو جا تا ہے۔ پتہ نہیں میں کیا کہہ رہا ہوں۔ میں کہہ بھی رہا ہو یا مجھے احساس ہو رہا ہے کہ میں کچھ کہہ رہا ہوں۔

    ناول کے کرداروں سے بالکل بھی تعلق نہیں بنا۔ شاید لکھا بھی ایسے ہی ہے کہ کردار سے ہمدردی نہ ہو۔ لیکن ہمدردی تو دور کی بات ہے، دلچسپی ہی نہیں بنی کسی کردار میں۔ جو مرضی ہو رہا ہے کوئی پرواہ نہیں۔

    ناول ایک داستان کی طرح ہے۔ مرکزی کردار ذکی اپنی کہانی سنا رہا ہے۔ اب یہ پوچھیں کہ ذکی کی کی داستان دلچسپ ہے؟؟؟ مجھے تو نہیں لگی۔ ویسے ہی ادھر سے ادھر گھوم رہا ہے۔ سب سے زیادہ مجھے کوفت ہوئی کہ یہ کتاب مختلف ابواب پر مشتمل نہیں ہے ایک لمبی بے نتیجہ داستان بے شمار صفحات پر پھیلی ہوئی ہے ۔ معلوم نہیں کیسے اس کو پڑھیں اور کیسے سمجھیں۔ ایک ہی کردار کے نقطہ نظر سے ہے تو ایک ہی لہجہ چل رہا ہے پوری کہانی میں۔ اور اس میں ٹیکنالوجی کو شامل کر نےکا تکلف کیوں کیا وہ بھی سمجھ سے بالا تر ہے۔ کمپیوٹر سائنس کے نام پر میسنجر، ایکسل شیٹ کے علاوہ اس میں کچھ بھی نہیں ہے۔

    کچھ سین مزاحیہ ضرور ہیں لیکن کہانی بہت سست اور بے مقصد الجھی ہوئی ہے جس کی وجہ سے اس مزاح کا بھی زیادہ مزہ نہیں آیا۔ Hardcover مرزا صاحب کا یہ ناول  اردو فکشن کی میری پڑھائی میں شاید  پہلا ناول ہے  جس کو میں انگریزی مزاح کی اصطلاح  بلیک کامیڈی سے تعبیر کر سکتا ہوں ۔
    غلام باغ کے بارے میں  کافی  ملی جلی رائے موصول ہوتی ہے. اس لیے اُس کو پڑھنے کے لیے دل کبھی آمادہ نہ ہوا. اس ناول کے عنوان  نے متاثر کیا. امید تھی کہ  نوے کی دہائی میں پیدا ہونے کے باعث میری اردو فکشن کی تلاش میں، یہ آئی ٹی انقلاب کے بعد  جدید اردو فکشن کا بہترین نمونہ ہوگا۔
    جیسا کہ مرزا صاحب کے بارے میں  سب کو معلوم ہے کہ وہ شعبہ ہائے فلسفہ کے ساتھ  تدریس کے حوالے سے  منسلک رہے ہیں. اسی لئے ان کی تحریریں اپنے مواد میں  گہرائی  اور تمثیل رکھتی ہیں. مجھے نجانے کیوں ان کے کرداروں میں ملکی دھارے میں موجود  غیر سیاسی ادارو‍ں کی شکل نظر آئی. مثلاً جو سالار نیٹ ورک انھوں نے اپنے ناول میں بیان کیا. بلاشبہ وہ اقربا پروری کے نظام پر گہری چوٹ تھی مگر مجھے پتہ نہیں کیوں ملک کے غیر سیاسی اداروں کی بدمعاشی کی جھلک نظر آئی۔
    (مزید وضاحت کے لیے پرائیویٹ میسج کریں)
    میری طرح موٹی عقل کے قارئین اس ناول کے بارے میں بالکل نہ گھبرائیں. یہ ناول آپ کی سطح پر ہے. اس ناول میں جو مزاح پیدا کیا گیا ہے، آپ کو بہت ہنسائے گا. اگر آپ کو پنجابی زبان سے شُد بدھ ہے یا آپ پنجابی کا کوئی لہجہ/ڈائلیکٹ بولتے ہیں. (جیسا کہ راقم ہندکو بولتا ہے) تو آپ کو اس میں پنجابی مزاحیہ اصطلاحات بھرپور سمجھ میں آئیں گی۔
    مختصراً یہی کہوں گا کہ ناول آئی ٹی انقلاب، سیاہ مزاح اور معاشرتی خامیوں کا گہرا امتزاج ہے۔
    Hardcover i read it Hardcover بڑی مشکل بات ہے!

    زیر تبصرہ کتاب ‘صفر سے ایک تک‘ کو اگر بعض صاحب علم پوسٹ ماڈرن لٹریچر پر مبنی ناول کہتے ہیں تو بعض کی نظر میں یہ ایک بے سروپا داستان ہے۔ کوئی اسے اشرافیہ پر ڈارک کامیڈی کی صورت ایک گہرا طنز سمجھتا ہے تو کسی دوسرے کی نظر میں یہ روز مرہ کی زبان میں لکھا ذومعنویت سے پُر ایک گھمبیر فلسفہ ہے جو نہ سمجھ آنے پر بھی کچھ نہ کچھ سمجھ آ ہی جاتا ہے، یا شاید نہیں آتا!

    اب بندہ کیا کرے؟

    میرا ماننا ہے کہ مرزا اطہر بیگ کو پڑھنے والے تمام قارئین کم از کم دو نکات پر متفق ہیں۔ اول یہ کہ دماغ کو گھما دینے اور جذبات کی انتہاٗ کو چھولینے والے لمحات واقعات اور خیالات و احساسات کو فلسفیانہ لاتعلقی سے ہنسی مذاق اور طنز میں اڑادینے میں مرزا صاحب کا کوئی ثانی نہیں۔ دوم وہ اپنے ناولوں میں ایسے منفرد تکنیکی تجربات کرتے ہیں جو اردو ادب کی حد تک تو اچھوتے اور انوکھے ہی ہیں۔

    اس ہی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے ان کا یہ ناول بھی بیانیے کے روایتی انداز سے ہٹ کر کبھی خبروں کی صورت، کبھی میسنجر پر چیٹنگ کی شکل میں تو کبھی یاداشتوں کے انداز میں کہانی کو آگے بڑھاتا ہے۔ اگرچہ قاری جلد ہی جان جاتا ہے کہ یہ آگے بڑھنا روایتی معنی میں نہیں۔

    ناول کا مرکزی کردار ذکی اپنے باپ دادا کی طرح منشی ہے، لیکن وہ خود کو سالار نیٹورک کا سائیبر منشی کہتا ہے۔ یوں ان کے بہی کھاتوں اور حساب کتاب کو بستوں کی بجائے کمپیوٹر میں محفوظ کرتا ہوا سالاروں کے گہرے رازوں تک رسائی پالیتا ہے۔ اور اس جرم کی پاداش میں ایک بہت بڑی مشکل میں پھنس جاتا ہے۔

    وہ قاری کو اپنے اس حال کے حال تک لانے کیلئے ماضی کے مختلف رستوں کا انتخاب کرتے ہوئے گھماتا چلا جاتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ ایک دائرے کے درمیان پھنسا بیٹھا ہے جس کے مختلف نقطے کسی غیر مرئی ڈور سے بندھے ہیں اور ہر نقطہ کسی ایک واقعے کی نشاندہی کرتا ہے اور ہر واقعہ کہانی کو حال سے جوڑتا جاتا ہے۔ یوں یہ کہانی کسی ایک سمت میں چلنے کی بجائے ہر بار بھٹک کر رخ بدلتی ہے مگر نہ ربط ٹوٹتا اور نہ تجسس کم ہوتا ہے۔

    آخری چند صفحات تک پہنچ کر کہانی یوں سیدھی چلنے لگتی ہے جیسے منزل کے نظر آتے ہی مسافر کا راستہ واضح ہوجائے۔ سالار کون ہیں، سالار نیٹورک اور کبا گروپ کیا ہے، ذکی کونسا گیم بنا رہا ہے اور اس جیسے کئی سوالات سے شروع ہونے والا یہ ناول اختتام تک آتے آتے ان کے تمام جوابات بھی دے جاتا ہے، لیکن ایک ایسا سوال چھوڑ جاتا ہے کہ باقی سارے جوابات کا مل جانا بے معنی ہوجاتا ہے۔

    یہاں مرزا صاحب بھی اپنے قارئین کے ساتھ ایک ایسا گیم کر جاتے ہیں جیسے اس سفاک اور حقیقت پسندانہ اختتام کو پڑھ کر چونک جانے والے قاری کو لاپرواہی سے کہہ رہے ہوں کہ 'اور کوئی راہ بھی تو نہیں۔۔' Hardcover

    An experimental novel from one of the most prominent Urdu novelists of our times. Sifar Se Aik Tak: Cyberspace Ke Munshi Ki Sargazasht / صفر سے ایک تک: سائبرسپیس کے منشی کی سرگزشت

    Sifar

    READ & DOWNLOAD ✓ TENTPATCH.COM Ù Mirza Athar Baig